Sunday, January 8, 2017

آسٹریلیا کے ہاتھوں ۔۔۔ ’وائٹ واش‘۔۔۔ کیا گرین شرٹس نے کوئی سبق سیکھا؟

آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ میں پاکستان کو 220 رنز سے ہرا کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز صفر تین سے اپنے نام کر لی ہے۔ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 538 رنز اور دوسری اننگز میں دو کھلاڑیوں کے نقصان پر241 رنز بنائے تھے۔ پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو پندرہ جبکہ دوسری اننگز میں 244 اسکور کر سکی۔ اس میچ کا بہترین کھلاڑی آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر کو قرار دیا گیا، جنہوں نے پہلے دن لنچ سے قبل ہی سنچری اسکور کر کے ایک منفرد کارنامہ سرانجام دیا تھا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد نے اس ہزیمت آمیز شکست کے لیے پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ نظام کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شکست ملک میں ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کے غیر معیاری نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ بیالس سالہ کپتان مصباح الحق کا نعم البدل تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مصباح الحق پاکستانی کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے 53 میچوں میں قیادت کرتے ہوئے چوبیس میں فتح حاصل کی ہے۔ مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے اٹھارہ میچ ہارے جبکہ گیارہ برابر رہے۔گزشتہ کئی سالوں سے مصباح الحق پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بلے بازی کی سطح پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم آسٹریلیا میں چھ اننگز میں ان کا انفرادی اسکور چار، پانچ، گیارہ، صفر ، اٹھارہ اور اڑتیس رہا۔  




 اس ناقص کاکردگی پر ناقدین نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب مصباح الحق کو ریٹائرمنٹ لے لینا چاہیے۔
 پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کی جگہ کسی دوسرے کرکٹر کو تلاش  کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔
اب ہم مصباح کو کرکٹ چھوڑنے کا کیوں کہہ رہے ہیں؟ کیا ہم نے اس کا نعم البدل تلاش کر لیا ہے؟ بدقسمتی سے جواب ہے، ’نہیں‘۔ اور اس لیے اب دار و مدار مصباح پر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس نے مستقبل میں کرکٹ کھیلنا ہے یا نہیں۔“ میانداد کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانا ہو گی۔ دیگر ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں میں ہزیمت آمیز شکست کے بعد اب سبق سیکھ لینا چاہیے۔جبکہ ہمارے خیال میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش صرف گرین شرٹس ہی نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کےلئے بھی باعث شرمندگی کے ساتھ ساتھ لمحہ فکریہ بھی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پی سی بی سابق کرکٹرز کے تجربات سے استفادہ اٹھائے ،مقامی سطح پر کرکٹ کے نظام میں پائی جانےوالی خامیوں کو دور کرے ، ٹیم سلیکشن میں میرٹ کو مقدم رکھا جائے اسی کے ساتھ ہی ایسے دوروں کا زیادہ سے زیادہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ وہاں کے ماحول سے زیادہ سے زیادہ مانوس ہو سکیں اور انہیں وہاں کھیلنے میں اجنبیت کا احساس نہ ہو ۔اسی طرح مصباح الحق کے آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات جن میں کھلاڑیوں کی فٹنس کو بھی ہار کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا پر توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی ہزیمت آمیز شکست سے بچا جا سکے اسی طرح پی سی بی زبانی جمع خرچ کے بجائے وطن عزیز میں دیگر ممالک کی کرکٹ ٹیموں کو لانے اور یہاں کھیلنے پر آمادہ کرنے پر اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائے کیونکہ اب تو ملک میں بڑی حد تک دہشتگردی پر قابو پایا جا چکا ہے اور سکیورٹی کے بھی وہ مسائل نہیں جو آج سے دو سال قبل تھے ۔